فقہ المسیح — Page 320
فقه المسيح سود 320 سود، انشورنس اور بینکنگ سود، انشورنس اور بینکنگ سود کی بابت پوچھا گیا کہ بعض مجبوریاں لاحق حال ہو جاتی ہیں۔ فرمایا: اس کا فتوی ہم نہیں دے سکتے ۔ یہ بہر حال نا جائز ہے۔ ایک طرح کا سود اسلام میں جائز ہے یہ کہ قرض دیتے وقت کوئی شرط وغیرہ کسی قسم کی نہ ہو اور مقروض جب قرضہ ادا کرے تو مروّت کے طور پر اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دیوے۔ آنحضرت ایسا ہی کیا کرتے ۔ اگر دس روپیہ قرض لئے تو ادائیگی کے وقت ایک سو تک دے دیا کرتے۔ سود حرام وہی ہے جس میں عہد معاہدہ اور شرائط اول ہی کر لی جاویں۔ سود در سود البدر 24 اگست 1904 ء صفحہ 8) ایک صاحب نے بیان کیا کہ سید احمد خان صاحب نے لکھا ہے أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً (آل عمران: 131) کی ممانعت ہے فرمایا: یہ بات غلط ہے کہ سود در سود کی ممانعت کی گئی ہے اور سود جائز رکھا ہے شریعت کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے یہ فقرہ اسی قسم کا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ گناہ در گناہ مت کرتے جاؤ، اس سے یہ مطلب نہیں ہوتا کہ گناہ ضرور کرو۔ اس قسم کا روپیہ جو کہ گورنمنٹ سے ملتا ہے وہ اسی حالت میں سود ہوگا جبکہ لینے والا اسی خواہش سے روپیہ دیتا ہے کہ مجھ کو سود ملے ورنہ گورنمنٹ جو اپنی طرف سے احسانا دیوے وہ سود میں داخل نہیں ہے۔ )75( البدر 27 مارچ 1903ء صفحہ