فقہ المسیح — Page 315
فقه المسيح 315 خرید وفروخت اور کاروباری امور پھر سال دو سال وغیرہ کی مدت کوئی حقیقت نہیں رکھتی ۔ وہ پہلے دن سے ہی نا جائز ہے۔ رہن با قبضہ ہو اور تحریر لینا بھی ضروری ہے )3 الفضل 26 جون 1946ء صفحہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مجھ سے حافظ روشن علی صا۔ ۔ صاحب نے بیان کیا کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول بیان فرماتے تھے کہ ایک دفعہ میں نے کسی شخص سے ایک زراعتی کنواں ساڑھے تین ہزار روپیہ میں رہن لیا مگر میں نے اس سے نہ کوئی رسید لی اور نہ کوئی تحریر کروائی اور کنواں بھی اسی کے قبضے میں رہنے دیا۔ کچھ عرصہ کے بعد میں نے اس سے کنوئیں کی آمد کا مطالبہ کیا تو وہ صاف منکر ہو گیا اور رہن کا ہی انکار کر بیٹھا۔ حافظ صاحب کہتے تھے کہ مولوی صاحب فرماتے تھے کہ کسی نے یہ خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا دی اور مولوی صاحب کے نقصان پر افسوس کیا مگر حضرت صاحب نے فرمایا تمہیں ان کے نقصان کی فکر ہے مجھے ایمان کی فکر ہے مولوی صاحب نے کیوں دوسرے شخص کو ایسی حالت میں رکھا جس سے اس کو بد دیانتی کا موقعہ ملا اور کیوں اسلامی حکم کے مطابق اس سے کوئی تحریر نہ لی اور کیوں اس سے با قاعدہ قبضہ نہ حاصل کیا۔ تیں سال کے لئے باغ رہن رکھوانا (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 146-145 ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت والدہ صاحبہ نے خاکسار سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو کسی دینی غرض کے لئے کچھ روپے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے تم اپنا زیور دے دو میں تم کو اپنا باغ رہن دے دیتا ہوں ۔ چنانچہ آپ نے سب رجسٹرار کو قادیان میں بلوا کر باقاعدہ رہن نامہ میرے نام کروا دیا اور پھر اندر آ کر مجھ سے فرمایا کہ میں نے رہن کے لئے تھیں سال کی میعاد لکھ دی ہے کہ اس عرصہ کے اندر یہ رہن تک نہیں کروایا جائے گا۔