فقہ المسیح — Page 306
فقه المسيح 306 پرده ضرورت تمدنی اُمور کے لیے پڑے، اُن کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے، وہ بیشک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔ مساوات کے لیے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ ان کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مشابہت نہ کریں۔ اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔ اسلام شہوات کی بناء کو کاٹتا ہے۔ یورپ کو دیکھو کیا ہورہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کتیوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں۔ یہ کسی تعلیم کا نتیجہ ہے؟ کیا پردہ داری یا پردہ دری کا۔ تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1899 ء ملفوظات جلد 1 صفحہ 298،297) خاص حالات میں پردہ کی رعایت فرمایا: ایسی صورت اور حالت میں کہ قہر خدا نازل ہو رہا ہو اور ہزاروں لوگ مر رہے ہوں ۔ پردہ کا اتنا تشدد جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ کی بیوی مرگئی ، تو کوئی اس کو اٹھانے والا بھی نہ رہا۔ اب اس حالت میں پردہ کیا کر سکتا تھا۔ مثل مشہور ہے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ مردوں ہی نے جنازہ اٹھایا۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔ دین اسلام میں تنگی و حرج نہیں۔ جو شخص خوامخواہ تنگی و حرج کرتا ہے، وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔ گورنمنٹ نے بھی پردے میں کوئی تنگی نہیں کی اور اب قواعد بھی بہت آسان بنا دئے ہیں۔ جو جو تجاویز اور اصلاحات لوگ پیش کرتے ہیں گورنمنٹ اسے توجہ سے سنتی اور ان پر مناسب اور مصلحت وقت کے موافق عمل کرتی ہے۔ کوئی شخص مجھے یہ تو بتائے کہ پردہ میں نبض دکھانا کہاں منع کیا ہے۔ (رساله الانذار، تقریر حضرت اقدس 2 مئی 1898 ء بحوالہ ملفوظات جلد اول صفحہ 171 ) پردہ میں حد درجہ تکلف ضروری نہیں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب