فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 611

فقہ المسیح — Page 301

فقه المسيح 301 وراثت فاسقہ کا حق وراثت وراثت ایک شخص نے بذریعہ خط حضرت سے دریافت کیا کہ ایک شخص مثلاً زید نام لا ولد فوت ہو گیا ہے۔ زید کی ایک ہمشیرہ تھی جو زید کے حین حیات میں بیاہی گئی تھی ۔ یہ سب اس کے کہ خاوند سے بن نہ آئی اپنے بھائی کے گھر میں رہتی تھی اور وہیں رہی یہاں تک کہ زید مر گیا۔ زید کے مرنے کے بعد اس عورت نے بغیر اس کے کہ پہلے خاوند سے با قاعدہ طلاق حاصل کرتی ایک اور شخص سے نکاح کر لیا جو کہ نا جائز ہے۔ زید کے ترکہ میں جو لوگ حقدار ہیں کیا ان کے درمیان اس کی ہمشیرہ بھی شامل ہے یا اس کو حصہ نہیں ملنا چاہئے؟ حضرت نے فرمایا: اس کو حصہ شرعی ملنا چاہیے کیونکہ بھائی کی زندگی میں وہ اس کے پاس رہی اور فاسق ہو جانے سے اس کا حق وراثت باطل نہیں ہو سکتا ۔ شرعی حصہ اس کو برابر ملنا چاہئے باقی معاملہ اس کا خدا کے ساتھ ہے۔ اس کا پہلا خاوند بذریعہ گورنمنٹ باضابطہ کارروائی کر سکتا ہے۔ اس کے شرعی حق میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ متنبی کو وارث بنانا جائز نہیں )6( بدر 26 ستمبر 1907ء صفحہ کسی کا ذکر تھا کہ اس کی اولاد نہ تھی اور اس نے ایک اور شخص کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنا کر اپنی جائیداد کا وارث کر دیا تھا۔ فرمایا: کاوارث کردیا فعل شرعا حرام ہے ۔ شریعت اسلام کے مطابق دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹا بنانا قطعا حرام ہے۔ 66 )7 بدر 17 راکتوبر 1907ء صفحہ(