فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 611

فقہ المسیح — Page 282

فقه المسيح 282 نکاح متبنی کی مطلقہ سے نکاح کا جواز خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے ہی یہ حکم فرما دیا تھا کہ تم پر صرف ان بیٹوں کی عورتیں حرام ہیں جو تمہارے صلبی بیٹے ہیں۔ جیسا کہ یہ آیت ہے۔ وَحَلَا بِلَ أَبْنَابِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمُ (النساء : 24) یعنی تم پر فقط ان بیٹوں کی جو روان حرام ہیں جو تمہاری پشت اور تمہارے نطفہ سے ہوں ۔ پھر جبکہ پہلے سے سے ۔ یہی قانون قانون تعلیم قرآنی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے اور یہ زینب کا قصہ ایک مدت بعد اس کے ظہور میں آیا ۔ تو اب ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ قرآن نے یہ فیصلہ اسی قانون کے مطابق کیا جو اس سے پہلے منضبط ہو چکا تھا۔ قرآن کھولو اور دیکھو کہ زینب کا قصہ اخیری حصہ قرآن میں ہے مگر یہ قانون کہ متبنی کی جو رو حرام نہیں ہو سکتی یہ پہلے حصہ میں ہی مہ ہی موجود ہے اور اس وقت کا یہ قانون ہے کہ جب زینب کا زید سے ا سے ابھی نکاح بھی نہیں ہوا تھا تم آپ ہی قرآن شریف کو کھول کر ان دونوں مقاموں کو دیکھ لو اور ذرہ شرم کو کام میں لاؤ۔ اور پھر بعد اس کے سورۃ الاحزاب میں فرمایا مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ وَمَا جَعَلَ أَزْوَاجَكُمُ اللَّائِي تُظَاهِرُونَ مِنْهُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَاءَ كُمُ أَبْنَاءَ كُمْ ذَلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَاهِكُمْ وَاللَّهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ ادْعُوهُمُ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللهِ (الاحزاب : 5 ، 6) یعنی خدا تعالیٰ نے کسی کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے پس اگر تم کسی کو کہو کہ تو میرا دل ہے تو اس کے پیٹ میں دو دل نہیں ہو جائیں گے دل تو ایک ہی رہے گا اسی طرح جس کو تم ماں کہہ بیٹھے وہ تمہاری ماں نہیں بن سکتی اور اسی طرح خدا نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو حقیقت میں تمہارے بیٹے نہیں کر دیا۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں اور خدا سچ کہتا ہے اور سیدھی راہ دکھلاتا ہے۔ تم اپنے منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکا رویہ تو قرآنی تعلیم ہے مگر چونکہ خدا تعالیٰ کو منظور تھا کہ اپنے پاک نبی کا نمونہ اس میں قائم کر کے پورانی رسم کی کراہت کو دلوں سے دور کر دے سو یہ نمونہ خدا تعالیٰ