فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 611

فقہ المسیح — Page 270

فقه المسيح 270 نکاح بیوہ کے نکاح کے واسطے حکم ہوا ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہر بیوہ کا نکاح کیا جائے ۔ نکاح تو اسی کا ہوگا جو نکاح کے لائق ہے۔ اور جس کے واسطے نکاح ضروری ہے۔ بعض عورتیں بوڑھی ہو کر بیوہ ہوتی ہیں۔ بعض کے متعلق دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ نکاح کے لائق نہیں ہوتیں ۔ مثلاً کسی کو ایسا مرض لاحق حال ہے کہ وہ قابل نکاح ہی نہیں یا ایک بیوہ کافی اولاد اور تعلقات کی وجہ سے ایسی حالت میں ہے کہ اس کا دل پسند ہی نہیں کر سکتا کہ وہ اب دوسرا خاوند کرے ۔ ایسی صورتوں میں مجبوری نہیں کہ عورت کو خواہ مخواہ جکڑ کر خاوند کرایا جاوے ۔ ہاں اس بد رسم کو مٹا دینا چاہیے کہ بیوہ عورت کو ساری عمر بغیر خاوند کے جبرا رکھا جاتا ہے۔ )11( بدر 10 راکتوبر 1907 صفحہ ( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ مغلانی نور جان صاحبہ بھا وجہ مرزا غلام اللہ صاحب نے بواسطہ لجنہ اماء اللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بیواؤں کے نکاح ثانی کے متعلق جب پشاور سے چار عورتیں آئی تھیں دو اُن میں سے بیوہ ، جوان اور مال دار تھیں۔ میں ان کو حضرت کے پاس لے گئی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ” جوان عورتوں کو نکاح کر لینا چاہیے میں نے کہا جن کا دل نہ چاہے وہ کیا کریں؟ یا بچوں والی ہوں ان کی پرورش کا کون ذمہ دار ہو؟ آپ نے آپ نے فرمایا اگر عورت کو یقین ہو کہ وہ ایمانداری اور تقویٰ سے گزار سکتی ہے اس کو اجازت ہے کہ وہ نکاح نہ کرے مگر بہتر یہی ہے کہ وہ نکاح کرلے۔ سکھ عورت مسلمان کے نکاح میں رہ سکتی ہے (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ (231) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ سردار سند رسنگھ صاحب ساکن دھرم کوٹ بگہ تحصیل بٹالہ جب مسلمان ہو گئے تو ان کا اسلامی نام فضل حق رکھا گیا تھا۔ ان کی بیوی اپنے آبائی سکھ مذہب پر مصر تھی ۔ سردار فضل حق صاحب چاہتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو جائے۔ ایک دن حضور علیہ السلام