فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxxii of 611

فقہ المسیح — Page xxxii

حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب اس الہام میں یہ پیغام دیا گیا کہ آپ کے ذریعے دین کا احیاء ہوگا اور شریعت کو اصل شکل میں قائم کیا جائے گا۔ چنانچہ آپ نے شریعت کے منافی تمام باتوں کی مناہی فرمائی اور انہیں بدعات قرار دے کر اپنی جماعت کو ان سے بچنے کی نصیحت کی ۔ فرمایا کتاب اللہ کے برخلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب بدعت ہے اور سب بدعت فی النار ہے۔ اسلام اس بات کا نام ہے کہ بجز اس قانون کے جو مقر ر ہے ادھر اُدھر بالکل نہ جاوے۔ کسی کا کیا حق ہے کہ بار بار ایک شریعت بناوے ۔۔۔۔ ہمارا اصول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سنت کے سوا نہیں ۔ )59( البدر 13 مارچ 1903ء صفحہ( اسی طرح ایک اور جگہ فرمایا د پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال خیر کی راہ چھوڑ کر اپنے طریقے ایجاد کرنا اور قرآن شریف کی بجائے اور وظائف اور کافیاں پڑھنا یا اعمال صالحہ کی بجائے قسم قسم کے ذکر اذکار نکال لینا یہ لذت روح کے لئے نہیں ہے بلکہ لذت نفس کے لئے ہے۔“ الحکم 31 جولائی 1902 ء صفحہ 8) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو ہر طرح کی بدعات سے منع کرتے ہوئے اصل سنت کو اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی ۔ چنانچہ آپ نے قل خوانی ، فاتحہ خوانی ، چہلم ، مولود خوانی، تصور شیخ ، اسقاط ، ختم ، دسویں محترم کی رسوم سمیت سب بد رسوم سے اپنی جماعت کو بچنے کی نصیحت فرمائی اور خدا اور رسول کی محبت کو دل میں پیدا کرنے کی طرف توجہ دلائی اور صرف ظاہری مسائل پر ہی ضرورت سے زیادہ توجہ دینے کے انداز کو نا پسند فرمایا ۔ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے ایمان دلوں میں قائم کرنے کے لئے لئے ۔ بھیجا ہے۔ 10