فقہ المسیح — Page 261
فقه المسيح 261 نکاح ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔ لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں ۔ پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔ ( الحکم 10 جنوری 1899 ءصفحہ 8) پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے رشتہ کرنے کو معیوب سمجھنا ٹھیک نہیں سوال پیش ہوا کہ بعض لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ جس کی عورت آگے موجود ہو اس کو ہم ناطہ نہیں دیتے ۔ فرمایا: پھر وہ اس سے تو مثنى وثلاث وَرُبَاعَ کو بند کرنا چاہتے ہیں ۔“ مہر کی مقدار 66 ( الحکم 10 فروری 1907ءصفحہ 4 ) مہر کے متعلق ایک شخص نے پوچھا کہ اس کی تعداد کس قدر ہونی چاہیے؟ فرمایا تراضی طرفین سے جو ہو اس پر کوئی حرف نہیں آتا اور شرعی مہر سے یہ مراد نہیں کہ نصوص یا احادیث میں کوئی اس کی حد مقرر کی گئی ہے بلکہ اس سے مراد اس وقت کے لوگوں کے مروجہ مہر سے ہوا کرتی ہے ہمارے ملک میں یہ خرابی ہے کہ نیت اور ہوتی ہے اور محض نمود کے لیے لاکھ لاکھ روپے کا مہر ہوتا ہے صرف ڈراوے کے لیے یہ لکھا جایا کرتا ہے کہ مرد قابو میں رہے اور اس سے پھر دوسرے نتائج خراب نکل سکتے ہیں نہ عورت والوں کی نیت لینے کی ہوتی ہے اور نہ خاوند کی دینے کی ۔ میرا مذہب یہ ہے کہ جب ایسی صورت میں تنازعہ آ پڑے تو جب تک اس کی نیت یہ ثابت نہ ہو کہ ہاں رضا و رغبت سے وہ اسی قدر مہر پر آمادہ تھا جس قدر کہ مقرر شدہ ہے تب تک مقرر شدہ نہ دلایا جاوے اور اس کی حیثیت اور رواج وغیرہ کو مد نظر رکھ کر پھر فیصلہ کیا جاوے کیونکہ بد نیتی کی اتباع نہ شریعت کرتی ہے اور نہ قانون ۔ 123 بدر 8 مئی 1903ء صفحہ(