فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 253 of 611

فقہ المسیح — Page 253

فقه المسيح 253 نکاح اعتدال نہیں رہتا ۔ اعتدال اسی میں ہے کہ ایک مرد کے لئے ایک ہی بیوی ہومگر مجھے تعجب ہے کہ وہ دوسروں کے حالات میں کیوں خوانخواہ مداخلت کرتے ہیں جبکہ یہ مسئلہ اسلام میں شائع متعارف ہے کہ چار تک بیویاں کرنا جائز ہے۔ مگر جبر کسی پر نہیں اور ہر ایک مرد اور عورت کو اس مسئلہ کی بخوبی خبر ہے تو یہ ان عورتوں کا حق ہے کہ جب کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہیں تو اول شرط کرالیں کہ ان کا خاوند کسی حالت میں دوسری بیوی نہیں کرے گا اور اگر نکاح سے پہلے ایسی شرط لکھی جائے تو بے شک ایسی بیوی کا خاوند اگر دوسری بیوی کرے تو جرم نقض عہد کا مرتکب ہوگا ۔ لیکن اگر کوئی عورت ایہ عورت ایسی شرط نہ لکھاوے اور حکم شرع پر راضی ہو وے تو اس حالت میں دوسرے کا دخل دینا ۔ ادینا بے جا ہو گا اور اس جگہ یہ مثل صادق آئے گی کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی ۔ ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا نے تعدد از دواج فرض واجب نہیں کیا ہے ۔ خدا کے حکم کی رو سے صرف جائز ہے۔ پس اگر کوئی مرد اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس جائز حکم سے فائدہ اُٹھانا چاہے جو خدا کے جاری کردہ لئے یہ راہ کشادہ قانون کی رو سے ہے اور اس کی پہلی بیوی اس پر راضی نہ ہو راضی نہ ہو تو اس بیوی کے لئے یہ ر ہے کہ وہ طلاق لے لے اور اس غم سے نجات پاوے اور اگر دوسری عورت جس سے نکاح کرنے کا ارادہ ہے اس نکاح پر راضی نہ ہو تو اس کے لئے بھی یہ سہل طریق ہے کہ ایسی درخواست کرنے والے کو انکاری جواب دے دے۔ کسی پر جبر تو نہیں لیکن اگر وہ دونوں عورتیں اس اس نکاح پر راضی ہو جاویں اس صورت میں کسی آریہ کو خوانخواہ خواہ دخل دس دینے اور اعتراض کرنے کا کیا حق ہے ۔۔۔۔۔ یہ مسئلہ حقوق عباد کے متعلق ہے اور جو شخص دو بیویاں کرتا ہے اس میں خدا تعالیٰ کا حرج نہیں ۔ اگر حرج ہے تو اس بیوی کا جو پہلی بیوی ہے یا دوسری بیوی کا ۔ پس اگر پہلی بیوی اس نکاح میں اپنی حق تلفی سمجھتی ہے تو وہ طلاق لے کر اس جھگڑے سے خلاصی پاسکتی ہے اور اگر خاوند طلاق نہ دے تو بذریعہ حاکم وقت وہ خلع کراسکتی ہے۔ اور اگر دوسری بیوی اپنا کچھ حرج سمجھتی ہے تو وہ اپنے نفع نقصان کو خود بجھتی ہے۔ پس یہ