فقہ المسیح — Page 251
فقه المسيح 251 نکاح عليه چه خدا تعالیٰ کے اصل منشاء سے دور جا پڑتے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کردی ہیں مگر اس سے یہ مطلب نہیں ہے کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔ خدا تعالیٰ تو اپنے بندوں کی صفت میں فرماتا ہے يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَ قِيَامًا (الفرقان:65) کہ وہ اپنے رب کے لئے تمام تمام رات سجدہ اور قیام میں گزارتے ہیں۔ اب دیکھو رات دن بیویوں میں غرق رہنے والا خدا کے منشاء کے موافق رات کیسے عبادت میں کاٹ سکتا ہے۔ وہ بیویاں کیا کرتا ہے گویا خدا کے لئے شریک پیدا کرتا ہے۔ آنحضرت مے کی نو بیویاں تھیں اور باوجود اُن کے پھر بھی آپ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گزارتے تھے۔ ایک رات آپ کی باری عائشہ صدیقہ کے پاس تھی ، کچھ حصہ رات کا گزر گیا تو عائشہ کی آنکھ کھلی۔ دیکھا کہ آپ موجود نہیں ، اسے شبہ ہوا کہ شاید آپ کسی اور بیوی کے ہاں گئے ہوں گے۔ اُس نے اُٹھ کر ہر ایک کے گھر میں تلاش کیا مگر آپ نہ ملے ۔ آخر دیکھا کہ آپ قبرستان میں ہیں اور سجدہ میں رو رہے ہیں۔ اب دیکھو کہ آپ زندہ اور چہیتی بیوی کو چھوڑ کر مردوں کی جگہ قبرستان میں گئے اور روتے رہے تو کیا آپ کی بیویاں حظ نفس یا اتباع شہوت کی بناء پر ہو سکتی ہیں؟ غرض کہ خوب یا درکھو کہ خدا کا اصل منشاء یہ ہے کہ تم پر شہوات غالب نہ آئیں اور تقویٰ کی تکمیل کے لئے اگر ضرورت حقہ پیش آوے تو اور بیوی کرلو۔ البدر 8 جولائی 1904 ء صفحہ (2) اسلام نے کثرت ازدواج کا راستہ روکا ہے کثرت ازدواج کے اعتراض میں ہماری طرف سے وہی معمولی جواب ہوگا کہ اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعد د ازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ۔ بلکہ یہ قرآن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بے حدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے۔ (حجۃ الاسلام ۔ روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 47) تعد د ازدواج کی ضرورت اور حکمت آریہ سماج والے تعددازدواج کو نظر نفرت سے دیکھتے ہیں مگر بلا شبہ وہ اس ضرورت کو