فقہ المسیح — Page xxix
و حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب نصوص بینہ قرآنیہ سے مخالف واقع ہوں گے ان معنوں کو ہم ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ بلکہ جہاں تک ہمارے لئے ممکن ہوگا ہم اس حدیث کے ایسے معانی کریں گے جو کتاب اللہ کی نص بین سے موافق و مطابق ہوں اور اگر ہم کوئی ایسی حدیث پائیں گے جو مخالف نص قرآن کریم ہوگی اور کسی صورت سے ہم اس کی تاویل کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے تو ایسی حدیث کو ہم موضوع قرار دیں گے“ الحق مباحثہ لدھیانہ۔ روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 11، 12) 2 سنت اور تعامل کی حجیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حدیث کی صحت کو پرکھنے کے لئے قرآن کریم کو معیار قرار دیا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے اس موضوع پر آپ کا ایک مباحثہ ہوا جو الحق مباحثہ لدھیانہ کے نام سے روحانی خزائن جلد 4 میں موجود ہے ۔ آر ہے۔ آپ نے حدیث کے صحیح مقام کو واضح کیا اور بتایا کہ سنت اور حدیث میں فرق ہے۔ سنت الگ چیز ہے اور حدیث الگ چیز ۔ سنت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش کا نام ہے جو تعامل کے رنگ میں امتِ مسلمہ میں مسلسل جاری رہی ہے اس لئے ہم اسے نہایت اہمیت دیتے ہیں اور اس کے بارہ میں یہ معیار قرار نہیں دیتے کہ اسے قرآن کریم پر پرکھا جائے ۔ ہاں حدیث کو قرآن کریم پر پر کھنے کی ضرورت ہے ۔ ت ہے۔ سنت اور حدیث کا فرق واضح کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں :۔ ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز ہے۔ سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتداء سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی ۔ یا بہ تبدیل 7