فقہ المسیح — Page 226
فقه المسيح 226 مج حج حج کی تاکید فرمایا: اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو، ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔“ ارکان حج کی حکمتیں کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15 ) اسلام کے احکام کے بارہ میں مخالفین کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:۔ بارہ مضمون پڑھنے والے نے اس اعتراض کے ساتھ یہ اعتراض بھی جڑ دیا ہے کہ مسلمانوں کے اعتقاد میں حجر اسود ایک ایسا پتھر ہے جو آسمان سے گرا تھا معلوم نہیں کہ اس اعتراض سے اُس کو کیا فائدہ ہے۔ استعارہ کے رنگ میں بعض یہ روایتیں ہیں کہ وہ بہشتی پتھر ہے مگر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ بہشت میں کوئی پتھر نہیں ہے بہشت ایسا مقام ہے کہ اس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اور اس دنیا کی کوئی چیز بھی بہشت میں نہیں ہے بلکہ بہشتی نعمتیں ایسی نعمتیں ہیں کہ جو نہ کبھی آنکھوں نے دیکھیں اور نہ کانوں نے سنیں اور نہ دل میں گذریں اور خانہ کعبہ کا پتھر یعنی حجر اسود ایک روحانی امر کے لئے نمونہ قائم کیا گیا ہے ( حاشیہ ۔ خدا تعالیٰ نے شریعت اسلام میں بہت سے ضروری احکام کے لئے نمونے قائم کئے ہیں چنانچہ انسان کو یہ حکم ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں کے ساتھ اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو۔ پس ظاہری قربانیاں اسی حالت کے لئے نمونہ ٹھہرائی گئی ہیں لیکن اصل غرض یہی قربانی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَنْ يَنَالُ اللَّهَ لُحُومَهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ (الحج : 38) یعنی خدا کو