فقہ المسیح — Page 224
فقه المسيح 224 زكوة منع ہے ویسا ہی صاحب توفیق کے لئے بھی اس کا لینا جائز نہیں ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ میں نے یہ سنا ہوا ہے کہ حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج کل سخت اضطرار کی حالت میں جبکہ کوئی اور صورت نہ ہو۔ ایک سید بھی زکوۃ لے سکتا ہے۔ ( سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 566) زکوۃ مرکز میں بھیجی جائے چاہئیے کہ زکوۃ دینے والا اسی جگہ اپنی زکوۃ بھیجے ۔“ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 83) مکان اور جواہرات پر زکوۃ نہیں خط سے سوال پیش ہوا کہ مکان میں میرا پانچ سو روپے کا حصہ ہے اس حصہ میں مجھ پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا: جواہرات و مکانات پر کوئی زکوۃ نہیں ۔“ الحکم 24 فروری 1907 ءصفحہ 13 ) اخبار بدر میں اسی سوال کا جواب کسی قدر تفصیل سے درج ہے۔ چنانچہ اخبار نے لکھا کہ ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا: مکان خواہ کتنے ہزار روپے کا ہو، اس پر زکوۃ نہیں۔ اگر کرایہ پر چلتا ہو تو آمد پر زکوۃ ہے۔ ایسا ہی تجارتی مال پر جو مکان میں رکھا ہے زکوۃ نہیں ۔ حضرت عمر چھ ماہ کے بعد حساب کر لیا کرتے تھے اور روپیہ پر زکوۃ لگائی جاتی تھی۔ صدقہ کا گوشت صرف غرباء کا حق ہے )8 بدر 14 فروری 1907ء صفحہ( حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ اہلیہ صاحبہ عبدالعزیز صاحب