فقہ المسیح — Page 222
فقه المسيح 222 زكوة کے لئے نہ دیا جائے اس میں زکوۃ دینا بہتر ہے کہ وہ اپنے نفس کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ اسی پر ہمارے گھر میں عمل کرتے ہیں اور ہر سال کے بعد اپنے موجودہ زیور کی زکوۃ دیتے ہیں اور جو زیور روپیہ کی طرح جمع رکھا جائے اس کی زکوۃ میں کسی کو بھی اختلاف نہیں ۔“ 66 قرض پر زکوة )11 الحکم 17 نومبر 1905ء صفحہ سوال پیش ہوا کہ جو روپیہ کسی شخص نے کسی کو قرضہ دیا ہوا ہے کیا اس پر اس کو زکوۃ دینی لازم ہے؟ فرمایا: د نہیں ۔ ( بدر 21 فروری 1907 ء صفحه (5) معلق مال پر زکوۃ واجب نہیں ایک صاحب نے دریافت کیا کہ تجارت کا مال جو ہے جس میں بہت سا حصہ خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اُگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکوۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا: جو مال معلق ہے اس پر زکوۃ نہیں جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے لیکن تاجر کو چاہیے کہ حیلے بہانے سے زکوۃ کو نہ ٹال دے۔ آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب زکوۃ دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے۔ بعض لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے۔ سید کے لئے زکوة؟ )5( بدر 11 جولائی 1907ء صفحہ( اس سوال کے جواب میں کہ کیا سید کے لئے زکوۃ جائز ہے فرمایا : اصل میں منع ہے اگر اضطراری حالت ہو فاقہ پر فاقہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں