فقہ المسیح — Page 207
فقه المسيح 207 روزہ اور رمضان وو سفر میں تو روزہ نہیں تھا ؟ ہم نے کہا نہیں ۔ حضور نے ہمیں گلابی کمرہ رہنے کو دیا۔ ڈاکٹر دو 66 دو 66 صاحب نے کہا : ہم روزہ رکھیں گے ۔ آپؐ نے فرمایا ” بہت اچھا! آپ سفر میں ہیں ۔“ ڈاکٹر صاحب نے کہا۔ حضور ! چند روز قیام کرنا ہے دل چاہتا ہے روزہ رکھوں ۔ آپؐ نے فرمایا ۔ اچھا ! ہم آپ کو کشمیری پراٹھے کھلائیں گے ۔ ہم نے خیال کیا کشمیری پر اٹھے خدا جانے کیسے ہوں گے؟ جب سحری کا وقت ہوا اور ہم تہجد ونوافل سے فارغ ہوئے اور کھانا آیا تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود گلابی کمرے میں تشریف لائے ۔ ( جو کہ مکان کی نچلی منزل میں تھا) حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مکان کی اوپر والی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے۔ ان کی بڑی اہلیہ کریم بی بی صاحبہ جن کو مولویانی کہا کرتے تھے۔ کشمیری تھیں اور پراٹھے اچھے پکایا کرتی تھیں ۔ حضور نے یہ پراٹھے ان سے ہمارے واسطے پکوائے تھے۔ پر اٹھے گرما گرم اوپر سے آتے تھے اور حضور علیہ السلام خود لے کر ہمارے آگے رکھتے تھے اور فرماتے تھے ۔ ”اچھی طرح کھاؤ ۔ مجھے تو شرم آتی تھی اور ڈاکٹر صاحب بھی شرمسار تھے مگر ہمارے دلوں پر جو اثر حضور کی شفقت اور عنایت کا تھا اس سے روئیں روئیں میں خوشی کا لرزہ پیدا ہو رہا تھا ۔ اتنے میں اذان ہو گئی تو حضور نے فرمایا کہ اور کھاؤ ، ابھی بہت وقت ہے۔ فرمایا : ” قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرة: 188) اس پر لوگ عمل نہیں کرتے ۔ آپ کھائیں ابھی وقت بہت ہے۔ مؤذن نے وقت سے پہلے اذان دے دی ہے ۔“ جب تک ہم کھاتے رہے حضور کھڑے رہے اور ٹہلتے رہے ۔ ہر چند ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ حضور تشریف رکھیں ، میں خود خادمہ سے پر اٹھے پکڑلوں گا یا میری بیوی لے لیں گی مگر حضور نے نہ مانا اور ہماری خاطر تواضع میں وو 66 66