فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 611

فقہ المسیح — Page 191

فقه المسيح 191 نماز جنازہ اور تدفین علیہ السلام کے مندرجہ ذیل فتوی کی روشنی میں سفارش پیش کی جسے حضور نے منظور فرمایا۔ مجلس کے نزدیک اس خط میں مشتبہ الحال شخص سے مراد ایسا شخص ہے جو اگر چہ با قاعدہ طور پر جماعت احمد یہ میں داخل نہ ہو مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مکذب بھی نہ ہو بلکہ احمدیوں سے میل جول رکھتا ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے متعلق ان کی ہاں میں ہاں ملا کر ایک گونہ تصدیق کرتا ہو ایسے شخص کے جنازہ کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ظاہرا کوئی حرج نہیں سمجھا۔ اگر چہ انقطاع کو بہتر قرار دیا ہے۔ جماعت احمدیہ کا عمل ایسے شخص کے بارہ میں بھی حضور کے ارشاد کے آخری حصہ پر ہے۔ یعنی انقطاع کو بہر حال بہتر خیال کیا گیا ہے۔ مناسب حالات میں پہلے حصے پر بھی عمل کرنے میں کچھ حرج نہیں (جس کی اجازت لی جاسکتی ہے ) بشرطیکہ امام احمد یوں میں سے ہو ۔ اگر نماز جنازہ میں امام احمدی نہ ہو سکتا ہو تو پھر ایسے شخص کے جنازہ کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط مورخہ 23 فروری 1902ء وو جو شخص صریح صریح گالیاں دینے والا ، کافر کہنے والا اور سخت مکذب ہے اس کا جنازہ تو کسی طرح درست نہیں مگر جس شخص کا حال مشتبہ ہے گویا منافقوں کے رنگ میں ہے۔ اُس کے لئے کچھ ظاہراً حرج نہیں ہے کیونکہ جنازہ صرف دعا ہے اور انقطاع بہر حال بہتر ہے۔“ (فرمودات مصلح موعود صفحه 119 ) کشفی قوت کے ذریعہ میت سے کلام ہو سکتا ہے حضرت مفتی محمد صادق صاحب روایت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے۔ ارواح کا قبور سے تعلق ہے اور ہم اپنے ذاتی تجربہ سے کہتے ہیں کہ مردوں سے کلام ہو سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے کشفی قوت اور جس کی ضرورت ہے ۔ ہر شخص کو یہ بات حاصل نہیں ۔ روح کا تعلق قبر کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے ۔ جہاں اُسے ایک مقام ملتا ہے ۔“ ( ذکر حبیب حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 187 )