فقہ المسیح — Page 187
فقه المسيح 187 نماز جنازہ اور تدفین نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جاوے ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہے تو پھر نہ پڑھنی چاہئے ہماری جماعت کے سر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہماری جماعت دوسرے غیر از جماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَوتَكَ سَكَةٌ لَّهُمُ (التوبة : 104 ) اس میں صلوٰۃ سے مراد جنازہ کی نماز ہے اور سَكَن لَّهُمْ دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا گنہگار کو سکینت اور ٹھنڈک بخشتی تھی ۔ طاعون سے مرنے والے مخالفین کا جنازہ البدر 14 نومبر 1902ء صفحہ 19 ) ایک صاحب نے پوچھا کہ ہمارے گاؤں میں طاعون ہے اور اکثر مخالف مکذب مرتے ہیں ان کا جنازہ پڑھا جاوے کہ نہ ؟ فرمایا : یہ فرض کفایہ ہے اگر کنبہ میں سے ایک آدمی بھی چلا جاوے تو ہو جاتا ہے مگر اب یہاں ایک تو طاعون زدہ ہے کہ جس کے پاس جانے سے خدا روکتا ہے۔ دوسرے وہ مخالف ہے خواہ نخواہ تداخل جائز نہیں ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کو بالکل چھوڑ دو اور اگر وہ چاہے گا تو اُن کو خود دوست بنا دے گا یعنی مسلمان ہو جاویں گے۔ خدا تعالیٰ نے منہاج نبوت پر اس سلسلہ کو چلایا ہے۔ مداہنہ سے ہرگز فائدہ نہ ہوگا بلکہ اپنا حصہ ایمان کا بھی گنواؤ گے۔ غیر احمدیوں کا جنازہ پڑھنے کا مسئلہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں :۔ )130 البدر 15 مئی 1903ء صفحہ( ایک سوال غیر احمدی کے جنازہ پڑھنے کے متعلق کیا جاتا ہے۔ اس میں ایک یہ مشکل پیش کی جاتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بعض صورتوں میں جنازہ پڑھنے کی اجازت دی