فقہ المسیح — Page 164
فقه المسيح 164 نماز جمعہ اور عید جمعہ پڑھانے کی بہت خواہش ہے تو فرمایا کہ اچھا آج جمعہ ہو جائے۔ تو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سفر کے موقع پر جمعہ پڑھتے بھی دیکھا ہے اور چھوڑتے بھی اور جب سفر میں جمعہ پڑھا جائے تو میں پہلی سنتیں پڑھا کرتا ہوں اور میری رائے یہی ہے کہ وہ پڑھنی چاہئیں کیونکہ وہ عام سنن سے مختلف ہیں اور وہ جمعہ کے احترام کے طور پر ہیں۔ (الفضل 24 جنوری 1942 صفحہ 1) جمعہ پڑھنے کے لئے تعطیل کی تجویز حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر کرتے ہیں : 1895,96 ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گورنمنٹ میں ایک تحریک کرنی چاہی تھی کہ سرکاری دفاتر کے مسلمانوں کو نماز جمعہ کے ادا کرنے کے واسطے جمعہ کے دن دو گھنٹہ کے لئے رخصت ہوا کرے ۔ اس کے لئے حضرت صاحب نے ایک میموریل لکھا جس پر مسلمانوں کے دستخط ہونے شروع ہوئے۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب نے ایک اشتہار ر شائع کیا کہ یہ کام تو اچھا ہے ۔ لیکن مرزا صاحب کو یہ کام نہیں کرنا چاہئے ۔ ہم خود اس کام کو سر انجام دیں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بذریعہ اعلان مشتہر کر دیا کہ ہماری غرض نام سے نہیں بلکہ کام سے ہے۔ اگر مولوی صاحب اس کام کو سر انجام دیتے ہیں تو ہم اس کے متعلق اپنی کارروائی کو بند کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی کارروائی بند کر دی مگر افسوس ہے مولوی محمد حسین صاحب یا کسی دوسرے مسلمان عالم نے اس کے متعلق کچھ کار روائی نہ کی اور یہ کام اسی طرح درمیان میں رہ گیا۔ ( ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 42 ، 43) تعطیل جمعہ کے لئے حکومت کو میموریل بھیجنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جمعہ کے روز تعطیل رکھنے کے لئے متعدد کوششیں کیں ۔ اس غرض کے لئے آپ نے وائسرائے ہند لارڈ کرزن کی خدمت میں میموریل بھی