فقہ المسیح — Page 146
فقه المسيح 146 قصر نماز رکعت ادا کرتی لیکن ڈاکٹر صاحب باقی کی دو رکعت بعد از جماعت ادا کر لیتے ۔ ایک دفعہ حضرت اقدس نے دیکھ کر کہ ڈاکٹر صاحب نے ابھی دورکعت ادا کرنی ہے۔ فرمایا کہ:۔ ٹھہر شہر جاؤ ۔ ڈاکٹر صاحب دورکعت ادا کر لیویں لیو ہے ۔ پھر اس کے بعد جماعت دوسری نماز کی ہوئی ۔ ایسی حالت جمع میں سنت اور نوافل نہیں ادا کئے جاتے ۔ سفر میں قصر کی حد ( البدر یکم اگست 1904 ء صفحہ 4) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بذریعہ تحریر ذکر کیا کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قصر نماز کے متعلق سوال کیا ۔ حضور نے فرمایا ۔ جس کو تم پنجابی میں وانڈھا کہتے ہو۔ بس اس میں قصر ہونا چاہئے ۔ میں نے عرض کیا کہ کیا کوئی میلوں کی بھی شرط ہے۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ بس جس کو تم وانڈھا کہتے ہو وہی سفر ہے جس میں قصر جائز ہے۔ میں نے عرض کیا کہ میں سیکھواں سے قادیان آتا ہوں ۔ کیا اس وقت نماز قصر کر سکتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا ۔ ہاں ۔ بلکہ میرے نزدیک اگر ایک عورت قادیان سے نگل جائے تو وہ بھی قصر کر سکتی ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ سیکھواں قادیان سے غالبا چار میل کے فاصلہ پر ہے اور ننگل تو شاید ایک میل سے بھی کم ہے۔ منگل کے متعلق جو حضور نے قصر کی اجازت فرمائی سے بھی کم ہے۔ کے متعلق جوحضور نے قصر فرمائی ہے۔ ہے ۔ اس سے یہ مراد معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان سفر کے ارادہ سے قادیان سے نکلے تو خواہ ابھی ننگل تک ہی گیا ہو اس کے لئے قصر جائز ہو جائے گا ۔ یہ مراد نہیں ہے کہ کسی کام کے لئے صرف تنگل تک آنے جانے میں قصر جائز ہو جاتا ہے۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ تنگل تک آنے جانے کو صرف عورت کے لئے سفر قرار دیا ہو کیونکہ عورت کمزور جنس ہے ۔ واللہ اعلم ۔ ( سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 552،551)