فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 611

فقہ المسیح — Page 142

فقه المسيح 142 قصر نماز حکام کا دورہ سفر نہیں ہو سکتا ۔ وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی اپنے باغ کی سیر کرتا ہے۔ خواہ نخواہ قصر کرنے کا تو کوئی وجود نہیں ۔ اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہو گا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں ۔ سعدی نے بھی کہا ہے منعم بکوه و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا که رفت خیمه زد و خوابگاه ساخت )10 الحکم 24 اپریل 1903ء صفحہ کتنے دنوں کے سفر میں نماز قصر کی جاسکتی ہے؟ سوال :۔ نماز کس وقت تک قصر کی جاوے؟ اس سوال کے جواب میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں :۔ جب تک سفر ہو قصر کر سکتے ہیں اور اگر کہیں ٹھہرنا ہو اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنا ہو تو بھی قصر کریں اور اگر زیادہ ٹھہرنا ہو تو پوری پڑھیں ۔ )15( الفضل 18 مارچ 1916 ء صفحہ ایک سفر کے موقعہ پر نماز قصر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔ میں نماز قصر کر کے پڑھاؤں گا اور گو مجھے یہاں آئے چودہ دن ہو گئے ہیں مگر چونکہ علم نہیں کہ کب واپس جانا ہوگا۔ اس لئے میں نماز قصر کر کے پڑھاؤں گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ گورداسپور میں دو ماہ سے زیادہ عرصہ تک قصر نماز پڑھتے رہے کیونکہ آپ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ کب واپس جانا ہوگا۔ الفضل 25 مئی 1944ء صفحه (4) چودہ دن تک قیام کے ارادہ کی صورت میں نماز قصر کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے مندرجہ ذیل فتوی میں حضرت مسیح موعود کے ایک فیصلے کا ذکر ملتا ہے۔ یہ فتوی محترم ناظر صاحب تعلیم و تربیت قادیان نے 2 دسمبر 1937 ء کو