فقہ المسیح — Page 132
فقه المسيح 132 نماز استخاره استخارہ کی اہمیت فرمایا: نماز استخاره آج کل اکثر مسلمانوں نے استخارہ کی سنت کو ترک کر دیا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیش آمدہ امر میں استخارہ فرمالیا کرتے تھے۔ سلف صالحین کا بھی یہی طریقہ تھا۔ چونکہ دہریت کی ہوا پھیلی ہوئی ہے اس لیے لوگ اپنے علم و فضل پر نازاں ہو کر کوئی کام شروع کر لیتے ہیں اور پھر نہاں در نہاں اسباب سے جن کا انہیں علم نہیں ہوتا نقصان اُٹھاتے ہیں۔ اصل میں یہ استخاره ان بد رسومات کے عوض میں رائج کیا گیا تھا جو مشرک لوگ کسی کام کی ابتدا سے پہلے کیا کرتے تھے لیکن اب مسلمان اُسے بھول گئے حالانکہ استخارہ سے ایک عقل سلیم عطا ہوتی ہے ۔ جس کے مطابق کام کرنے سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ بعض لوگ کوئی کام خود ہی اپنی رائے سے شروع کر بیٹھتے ہیں اور پھر درمیان میں آکر ہم سے صلاح پوچھتے ہیں ۔ ہم کہتے ہیں جس علم و عقل سے پہلے شروع کیا تھا اسی سے نبھائیں ۔ اخیر میں مشورے کی کیا ضرورت؟ - سفر سے پہلے استخارہ کا طریق )3( بدر 13 جون 1907 ء صفحہ( حضرت اقدس نے ایک مہمان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ آپ استخارہ کر لیویں۔ استخارہ اہل اسلام میں بجائے مہورت کے ہے چونکہ ہندو شرک وغیرہ کے مرتکب ہو کر شگن وغیرہ کرتے ہیں اس لئے اہل اسلام نے ان کو منع کر کے استخارہ رکھا۔ اس کا طریق یہ ہے کہ انسان دو رکعت نماز نفل پڑھے۔ اول رکعت میں سورۃ قُلْ يَايُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھ لے اور دوسری میں قُلْ هُوَ اللهُ - التحیات میں یہ دعا کرے۔