فقہ المسیح — Page 119
فقه المسيح اپنی نما ز کو سنوارو ، یہ بھی دعا ہے ۔ 119 متفرق مسائل نماز کیا وجہ ہے کہ بعض لوگ تمیں تمہیں برس تک برابر نماز پڑھتے ہیں ۔ پھر کورے کے کورے ہی رہتے ہیں ۔ کوئی اثر روحانیت اور خشوع و خضوع کا ان میں پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا یہی سبب ہے کہ وہ ، وہ نماز پڑھتے ہیں جس پر خدا تعالیٰ لعنت بھیجتا ہے ایسی نمازوں کے لیے ویل آیا ہے ۔ دیکھو جس کے پاس اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہوتو کیا کوڑیوں اور پیسوں کے لیے اسے اس کو پھینک دینا چاہیے ۔ ہرگز نہیں ۔ اول اس جو ہر کی حفاظت کا اہتمام کرے اور پھر پیسوں کو بھی سنبھالے ۔ اس لیے نماز کو سنوار سنوار کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھے۔ سائل : الحمد شریف بیشک دعا ہے مگر جن کو عربی کا علم نہیں ان کو تو دعا مانگنی چاہیے ۔ حضرت اقدس : ہم نے اپنی جماعت کو کہا ہوا ہے کہ طوطے کی طرح مت پڑھو۔ سوائے قرآن شریف کے جو رب جلیل کا کلام ہے اور سوائے ادعیہ ماثورہ کے ، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھیں نماز با برکت نہ ہوگی جب تک اپنی زبان میں اپنے مطالب بیان نہ کرو ۔ اس لیے ہر شخص کہ جو عربی زبان نہیں جانتا ضروری ہے کہ اپنی زبان میں اپنی دعاؤں کو پیش کرے اور رکوع میں سجود میں مسنون تسبیحوں کے بعد اپنی حاجات کو عرض کرے۔ ایسا ہی التحیات میں اور قیام اور جلسہ میں ۔ اس لیے میری جماعت کے لوگ اس تعلیم کے موافق نماز کے اندر اپنی زبان میں دعائیں کر لیتے ہیں اور ہم بھی کر لیتے ہیں، اگر چہ ہمیں تو عربی اور پنجابی یکساں ہی ہیں مگر مادری زبان کے ساتھ انسان کو ایک ذوق ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی زبان میں نہایت خشوع اور خضوع کے ساتھ اپنے مطالب اور مقاصد کو بارگاہ رب العزة میں عرض کرنا چاہیے۔ میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ نماز کا تعہد کرو۔ جس سے حضور اور ذوق پیدا ہو ۔ فریضہ تو جماعت کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں ۔ باقی نوافل اور سنن کو جیسا چاہو طول دو اور چاہیے کہ اس میں گریہ و بکا ہوتا کہ وہ حالت پیدا ہو جاوے جو نماز کا اصل مطلب