فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 611

فقہ المسیح — Page 60

فقه المسيح فرمایا : 60 وضو ہمارا تو وہی مذہب ہے جو احادیث میں آیا ہے۔ یہ جو حساب ہے کہ اتنے دلو نکالو ، اگر فلاں جانور پڑے اور اتنے اگر فلاں پڑے۔ یہ ہمیں تو معلوم نہیں اور نہ اس پر ہمارا عمل ہے ۔ عرض کیا گیا کہ حضور نے فرمایا ہے جہاں سنتِ صحیحہ سے پتہ نہ ملے وہاں حنفی فقہ پر عمل کرلو۔ فرمایا: فقہ کی معتبر کتابوں میں بھی کب ایسا تعین ہے ہاں نجات المومنین میں لکھا ہے سواس میں تو یہ بھی لکھا ہے : سرٹوٹے وچ دے کے بیٹھ نماز کرے۔ کیا اس پر کوئی عمل کرتا ہے اور کیا یہ جائز ہے جبکہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز منع ہے۔ پس ایسا ہی یہ مسئلہ بھی سمجھ لو ۔ میں تمہیں ایک اصل بتا دیتا ہوں کہ قرآن مجید میں آیا ہے وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ (المدثر : 6) جب پانی کی حالت اس قسم کی ہو جائے جس سے صحت کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو صاف کر لینا چاہئے ۔ مثلاً پتے پڑ جاویں یا کیڑے وغیرہ ۔ (حالانکہ اس پر یہ ملاں نجس ہونے کا فتویٰ نہیں دیتے ) باقی یہ کوئی مقدار مقرر نہیں ۔ جب تک رنگ و بو و مزا نجاست سے نہ بدلے وہ پانی پاک ہے۔ حضرت مسیح موعود کے وضو کا طریق ( بدر یکم اگست 1907 ء صفحہ 12 ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی روایت کرتے ہیں: اکثر حضور کو وضو کرانے کے مواقع بھی میسر آتے رہے۔ وضو حضور بہت سنوار کر فرمایا کرتے ۔ ہر عضو کو تین تین دفعہ دھوتے ، سر کے صرف اگلے حصہ کا مسح فرمایا کرتے ۔ ریش مبارک میں خلال فرماتے اور جرابوں پر مسح ۔ کبھی جرا میں اتار کر بھی پاؤں