فقہ المسیح — Page 49
فقه المسيح 49 علم فقہ اور فقہاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاؤں کے ساتھ ملانا چاہا مگر جب میں نے اپنا پاؤں آپ کے پاؤں کے ساتھ رکھا تو آپ نے اپنا پاؤں کچھ اپنی طرف سر کا لیا جس پر میں بہت شرمندہ ہوا اور آئندہ کے لئے اس طریق سے باز آ گیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ فرقہ اہل حدیث اپنی اصل کے لحاظ سے ایک نہایت قابلِ قدر فرقہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سے مسلمان بدعات سے آزاد ہو کر اتباع سنت نبوی سے مستفیض ہوئے ہیں مگر انہوں نے بعض باتوں پر اس قدرنا مناسب زور دیا ہے اور اتنا مبالغہ سے کام لیا ہے کہ شریعت کی اصل روح سے وہ باتیں باہر ہوگئی ہیں ۔ اب اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ نماز میں دو نمازیوں کے در میان یونہی فالتو جگہ نہیں پڑی رہنی چاہئے بلکہ نمازیوں کو مل کر کھڑا ہونا چاہیے تا کہ اول تو بے فائدہ جگہ ضائع نہ جاوے۔ دوسرے بے ترتیبی واقع نہ ہو۔ تیسرے بڑے آدمیوں کو یہ بہانہ نہ ملے کہ وہ بڑائی کی وجہ سے اپنے سے کم درجہ کے لوگوں سے ذرا ہٹ کر الگ کھڑے ہوسکیں ۔ وغیر ذالک ۔ مگر اس پر اہل حدیث نے اتنا زور دیا ہے اور اس قدر مبالغہ سے کام لیا ہے کہ یہ مسئلہ ایک مضحکہ خیز بات بن گئی ۔ اب گویا ایک اہلِ حدیث کی نماز ہو نہیں سکتی جب تک وہ اپنے ساتھ والے نمازی کے کندھے سے کندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ اور پاؤں سے پاؤں رگڑاتے ہوئے نماز ادا نہ کرے حالانکہ اس قدر قرب بجائے مفید ہونے کے نماز میں خواہ مخواہ پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔ کتب فقہ پر نظر ثانی کی ضرورت (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 313 ، 314) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ میاں خیرالدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کتب فقہ پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ (سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 279)