درثمین مع فرہنگ — Page 186
درس توحید وہ دیکھتا ہے غیروں سے کیوں دل لگاتے ہو جو کچھ بُتوں میں پاتے ہو اس میں وہ کیا نہیں سورج پر غور کر کے نہ پائی وہ روشنی جب چاند کو بھی دیکھا تو اُس یار سا نہیں واحد ہے لا شریک ہے اور لازوال ہے سب موت کا شکار ہیں اُس کو فنا نہیں سب خیر ہے اسی میں کہ اُس سے لگاؤ دل ڈھونڈو اُسی کو یا روائیتوں میں وفا نہیں اس جاتے پر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو دوزخ ہے یہ مقام یہ بستان سرا نہیں ( رساله تشهید الاذهان ماه دسمبر شانه) 186