درثمین مع فرہنگ — Page 169
غیر ہو کر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و نہار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اگل و شرب کون سے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پرخطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آب دار پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں مجھک گئے وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہ نا پائیدار جس کو دیکھو آج کل وہ شوخیوں میں طاق ہے آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقوی شعار منبروں پہ اُن کے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں اُن کی ہر دم کسب و غیبت کار مبار جس طرف دیکھو یہی دنیا ہی مقصد ہوگئی ہر طرف اس کے لئے رغبت دلائیں بار بار ایک کانٹا بھی اگر دین کے لئے اُن کو لگے پہنچ کر اس سے وہ بھاگیں شیر سے جیسے حمار ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں دیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں گو تیغ کھینچے صد ہزار اے مرے پیارے بتا تو کس طرح خوش نود ہو نیک دن ہو گا وہی جب تجھ پہ ہو ہیں ہم نشار جس طرح تو دور ہے لوگوں سے میں بھی دور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا راز دار 169