درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 167

ٹوٹے کاموں کو بناوے جب نگاہ فضل ہو پھر بنا کر توڑ دے اک دم میں کر دے تار تار تو ہی بگڑی کو بنا وے توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سو کرے کوئی بچار جب کوئی دل ظلمت عصیاں میں ہو دے مبتلا تیرے بن روشن نہ ہو وے کو چڑھے سورج ہزار اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے جو کر دے رستگار دل جو خالی ہو گداز عشق سے وہ دل ہے کیا دل وہ ہے جس کو نہیں بے دیر یکتا قرار فقر کی منزل کا ہے اول قدم نفی وجود پس کرو اس نفس کو زیر و زیر از بهر یاد تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ ناکام اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پایہ تیرے منہ کی ٹھوک نے دل کو کیا زیر و زبر اے مرے فردوس اعلی ! اب گرا مجھ پر شمار اے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بچا اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دل فگار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مر کے ہو جانا غبار گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت رہی ہے فضل پر تیرے ہے سب جہد و عمل کار انحصار جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں رہ میں حق کی قوتیں اُن کی چلیں بن کر قطار 167