درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 158 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 158

و ان غموں سے دوستو خم ہو گئی میری کمر میں تو مر جاتا اگر ہوتا نہ فضل کردگار اس تکیش کو میری وہ جانے کہ رکھتا ہے تپش اس الم کو میرے وہ سمجھے کہ ہے وہ دلفگار کون روتا ہے کہ جس سے آسماں بھی رو پڑا مہرومہ کی آنکھ غم سے ہو گئی تاریک و نار مُفتری کہتے ہوئے اُن کو کیا آتی نہیں کیسے عالم ہیں کہ اس عالم سے ہیں یہ پر کنار غیر کیا جانے کہ دلبر سے ہمیں کیا جوڑ ہے وہ ہمارا ہو گیا اُس کے ہوتے ہم جاں نثار میں کبھی آدم کبھی موسی کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار اک شجر ہوں جس کو داؤدی صفت کے پھل لگے میں ہوا داؤد اور جالوت ہے میرا شکار پر سیما بن کے میں بھی دیکھتا روئے صلیب گر نہ ہوتا نام احمد جس پر میرا سب مدار دشمنو! ہم اُس کی رہ میں مر رہے ہیں ہر گھڑی کیا کرو گے تم ہماری نیستی کا انتظار سر سے میرے پاؤں تک وہ یار مجھ میں ہے نہاں اے مرے بدخواہ کرنا ہوش کر کے مجھ پر دار کیا کروں تعریف حسن یار کی اور کیا لکھوں اک ادا سے ہو گیا میں سکیل نفس دُوں سے پار اس قدر عرفاں بڑھا میرا کہ کافر ہو گیا آنکھ میں اس کی کہ ہے وہ دور تر از صحن یار اس رخ روشن سے میری آنکھ بھی روشن ہوئی ہو گئے اشرار اس دلبر کے مجھ پر آشکار 158