درثمین مع فرہنگ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 320

درثمین مع فرہنگ — Page 144

اس کا تو فرض تھا کہ وہ وعدے کو کر کے یاد خود مارتا وه گردن کذاب بد نهاد گر اُس سے رہ گیا تھا کہ وہ خود دکھائے ہاتھ اتنا تو سہل تھا کہ تمھارا بٹائے ہاتھ یہ بات کیا ہوئی کہ وہ تم سے الگ رہا او کچھ بھی مدد نہ کی ۔ نہ سنی کوئی بھی دُعا جو مشتری تھا اُس کو تو آزاد کر دیا سب کام اپنی قوم کا برباد کر دیا سب جد و جهد و سعی اکارت چلی گئی کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی گئی کیا " راستی کی فتح “ نہیں وعدہ خُدا دیکھو تو کھول کر متن پاک کبریا پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی کیا یا خود تمھاری چادر تقوی ہی پھٹ گئی یہ عجب نہیں ہے کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو 144