درثمین مع فرہنگ — Page 138
کچھ ایسا فضل حضرت رب الوری ہوا سب دشمنوں کے دیکھ کے آوساں ہوئے خطا اک قطره اس کے فضل نے دریا بنا دیا میں خاک تھا اسی نے ثریا بنا دیا میں تھا غریب و بیکس و گم نام و بے بہر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر لوگوں کی اس طرف کو ذرا بھی نظر نہ تھی میرے وجود کی بھی کسی کو خبر نہ تھی اب دیکھتے ہو کیسا رُجُوع جہاں ہوا راک مرجع خواص یہی شادیاں ہوا پر پھر بھی جن کی آنکھ تعصب سے بند ہے اُن کی نظر میں حال مرا ناپسند ہے میں مُفتری ہوں اُن کی نگاہ و خیال میں دنیا کی خیر ہے میری موت و زوال میں لعنت ہے مُفتری پر خدا کی کتاب میں عزت نہیں ہے ذرہ بھی اُس کی جناب میں 138