دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 81

M یہ سب نشاں ہیں جن سے دیں اب تلک ہے تازہ اے گرنے والو دوڑو دیں کا عصا یہی ہے کس کام کاؤہ دیں ہے جس میں نشاں نہیں ہے دیں کی مرے پیارو! زریں قبا یہی ہے افسوس آریوں پر جو ہو گئے ہیں شتر وہ دیکھ کر ہیں منکر ظلم و جفا یہی ہے معلوم کر کے سب کچھ محروم ہو گئے ہیں کیا ان نیوگیوں کا ذہن رسا یہی ہے اک ہیں جو پاک بندے اِک ہیں دلوں کے گندے جیتیں گے صادق آخر حق کا مزا یہی ہے ان آریوں کا پیشہ ہر دم ہے بد زبانی ویدوں میں آریوں نے شاید پڑھا یہی ہے پاکوں کو پاک فطرت دیتے نہیں ہیں گالی پر ان سیہ دلوں کا شیوہ سدا یہی ہے افسوس سب و تو ہیں سب کا ہوا ہے پیشہ کس کو کہوں کہ ان میں ہرزہ درا یہی ہے