دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 68 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 68

۶۸ القصہ یہ مسیح کے آنے کا ہے نشاں کر دے گا ختم آئے وہ دیں کی لڑائیاں ظاہر ہیں خود نشاں کہ زماں وہ زماں نہیں اب قوم میں ہماری وہ تاب و تواں نہیں اب تم میں خود وہ قوت و طاقت نہیں رہی وہ سلطنت وہ رعب وہ شوکت نہیں رہی وہ نام وہ نمود وہ دولت نہیں رہی وہ عزم مقبلا نہ وہ ہمت نہیں رہی وہ علم وہ صلاح وہ عفت نہیں رہی وہ نور اور وہ چاند سی طلعت نہیں رہی وہ درد وہ گداز وہ رقت نہیں رہی خلق خدا پر شفقت و رحمت نہیں رہی دل میں تمہارے یار کی الفت نہیں رہی حالت تمہاری جاذب نصرت نہیں رہی حمق آ گیا ہے سر میں وہ فطنت نہیں رہی گسٹل آگیا ہے دل میں جلادت نہیں رہی وہ علم و معرفت وہ فراست نہیں رہی وہ فکر وہ قیاس وہ حکمت نہیں رہی دنیا و دیں میں کچھ بھی لیاقت نہیں رہی اب تم کو غیر قوموں پر سبقت نہیں رہی وہ انس و شوق و وجدوه طاعت اعت نہ نہیں رہی ظلمت کی کچھ بھی حد و نہایت نہیں رہی ہر وقت جھوٹ، سچ کی تو عادت نہیں رہی نورِ خدا کی کچھ بھی علامت نہیں رہی سو سو ہے گند دل میں طہارت نہیں رہی نیکی کے کام کرنے کی رغبت نہیں رہی خوانِ تہی پڑا ہے وہ نعمت نہیں رہی دیں بھی ہے ایک قشر حقیقت نہیں رہی مولی سے اپنے کچھ بھی محبت نہیں رہی دل مر گئے ہیں نیکی کی قدرت نہیں رہی سب پر یہ اک بلا ہے کہ وحدت نہیں رہی اک پھوٹ پڑ رہی ہے، مودت نہیں رہی تم مر گئے تمہاری وہ عظمت نہیں رہی صورت بگڑ گئی ہے وہ صورت نہیں رہی