دُرِّثمین اُردو — Page 48
۴۸ تو نے ان چاروں کی پہلے سے بشارت دی تھی تیرے احسانوں کا کیونکر ہو بیاں اے پیارے تو وہ حاکم ہے کہ ٹلتا نہیں فرماں تیرا مجھ پہ بے حد ہے کرم اے مرے جاناں تیرا تخت پر شاہی کے ہے مجھ کو بٹھایا تو نے دین و دنیا میں ہوا مجھ پہ ہے احساں تیرا کس زباں سے میں کروں شکر کہاں ہے وہ زباں کہ میں ناچیز ہوں اور رحم فراواں تیرا مجھ پہ وہ لطف کئے تو نے جو برتر زخیال ذات برتر ہے تیری پاک ہے ایواں تیرا چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لیے سب سے پہلے یہ کرم ہے مرے جاناں تیرا کس کے دل میں یہ ارادے تھے یہ تھی کسی کو خبر کون کہتا تھا کہ یہ بخت ہے رخشاں تیرا پر مرے پیارے! یہی کام ترے ہوتے ہیں ہے یہی فضل تری شان کے شایاں تیرا