دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 32

۳۲ یہ چولا تھا اُس کی دُعا کا اثر یہ قدرت کے ہاتھوں کا تھا سربسر یہی چھوڑ کر وہ ولی مر گیا نصیحت تھی مقصد ادا کر گیا اُسے مردہ کہنا خطا ہے خطا کہ زندوں میں وہ زندہ دل جا ملا تن گم وہ ہوا یہ نشاں رہ گیا ذرا دیکھ کر اس کو آنسو بہا کہاں ہے محبت کہاں ہے وفا پیاروں کا چولا ہوا کیوں بُرا؟ وفادار عاشق کا ہے یہ نشاں کہ دلبر کا خط دیکھ کر ناگہاں لگاتا ہے آنکھوں سے ہو کر فدا یہی دیں ہے دلدادگاں کا سدا مگر جس کے دل میں محبت نہیں اُسے ایسی باتوں سے رغبت نہیں اُٹھو جلد تر لاؤ فوٹو گراف ذرا کھینچو تصویر چولے کی صاف کہ دنیا کو ہرگز نہیں ہے بقا فنا سب کا انجام ہے جز خدا سولو عکس جلدی کہ اب ہے ہر اس مگر اس کی تصویر رہ جائے پاس یہی رہ نما اور یہی پیر ہے یہ چولا کہ قدرت کی تحریر ہے یہ انگر نے خود لکھ دیا صاف صاف کہ ہے وہ کلام خدا بے گزاف وہ لکھا ہے خود پاک کرتار نے اسی تی و قیوم و غفار نے خدا نے جو لکھا وہ کب ہو خطا وہی ہے خدا کا کلام صفا یہی راہ ہے جس کو بھولے ہو تم اُٹھو یارو اب مت کرو راہ گم