دُرِّثمین اُردو — Page 168
۱۶۸ ہائے یہ کیا ہو گیا عقلوں پہ کیا پتھر پڑے ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار یا کسی مخفی گنہ سے شامت اعمال ہے جس سے عقلیں ہو گئیں بیکار اور اک مُردہ وار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گنہ جنکے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غبار ایسے کچھ سوئے کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے کہ پھر نسیاں ہو اگر دن کا ہار نوعِ انساں میں بدی کا تخم بونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہو اُس کا کاشتکار چھوڑ کر فرقاں کو آثار مخالف پر جمے سر پہ مسلم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار جبکہ ہے امکان کذب و کج روی اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہی پر انحصار جبکہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ سے جبکہ خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار پھر یقیں کو چھوڑ کر ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو رؤیت ہے بہتر یا نقول پر غبار تفرقہ اسلام میں نقلوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے میں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گذار صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہو گئے شیطان کے چیلے گردنِ دیں پر سوار موت عیسی کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقاں پہ کر سکتے ہو وار وہ خدا جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا اب بھی وہ تائید فرقاں کر رہا ہے بار بار