دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 157

۱۵۷ یہ عقیده برخلاف گفته دادار ہے ! پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اُس سے بولتا ہے جس کوہ کرتا ہے پیار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اِک یہی دیں کیلئے ہے جائے عزّ و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مُشک تار یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفان مولی کا نشان جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار واہ رے باغ محبت موت جس کی رہگذر وصلِ یار اسکا ثمر پر ارد گرد اس کے ہیں خار ایسے دل پر داغ لعنت ہے ازل سے تا ابد جو نہیں اس کی طلب میں بیخود و دیوانہ وار پر جو دنیا کے بنے کپڑے وہ کیا ڈھونڈیں اسے دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کے لئے ہو بے قرار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار یاد وہ دن جبکہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں مہدی موعود حق اب جلد ہوگا آشکار کون تھا جس کی تمنا یہ نہ تھی اک جوش سے کون تھا جس کو نہ تھا اُس آنیوالے سے پیار پھر وہ دن جب آگئے اور چودھویں آئی صدی سب سے اول ہو گئے منکر یہی دیں کے منار