دُرِّثمین اُردو — Page 154
اولد انبیاء کے طور پر حجت ہوئی ان پر تمام ان کے جو حملے ہیں ان میں سب نبی ہیں حصار میری نسبت جو کہیں کہیں سے وہ سب پر آتا ہے چھوڑ دینگے کیا وہ سب کو کفر کر کے اختیار مجھ کو کافر کہہ کے اپنے کفر پر کرتے ہیں مہر یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار ساتھ ہیں کچھ برس میرے زیادہ اس گھڑی سال ہے اب تئیسواں دعوئی پر از روئے شمار تھا برس چالیس کا میں اس مسافرخانہ میں جبکہ میں نے وحی ربانی سے پایا افتخار اس قدر یہ زندگی کیا افترا میں کٹ گئی پھر عجب تریہ کہ نصرت کے ہوئے جاری بکار ہر قدم میں میرے مولی نے دیئے مجھ کو نشاں ہر عدو پر حجت حق کی پڑی ہے ذوالفقار نعمتیں و ہ دیں مرے مولی نے اپنے فضل سے جن سے ہیں معنی أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ آشکار سایہ بھی ہو جائے ہے اوقات ظلمت میں جدا پر رہاؤہ ہر اندھیرے میں رفیق و غمگسار اس قدر نصرت تو کا ذب کی نہیں ہوتی کبھی گر نہیں باور نظیریں اس کی تم لاؤ دو چار پھر اگر ناچار ہو اس سے کہ دو کوئی نظیر اس مہیمن سے ہیمن سے ڈرو جو بادشاہ ہر دو دار یہ کہاں سے سُن لیا تم نے کہ تم آزاد ہو کچھ نہیں تم پر عقوبت گو کرو پر عقوبت گو کرو عصیاں ہزار نعرة إِنَّا ظَلَمْنَا سُنّتِ ابرار ہے زہر منہ کی مت دکھاؤ تم نہیں ہونسل مار جسم کو مل مل کے دھونا یہ تو کچھ مشکل نہیں دل کو جو دھووے وہی ہے پاک نزد کردگار اپنے ایماں کو ذرا پردہ اُٹھا کر دیکھنا مجھ کو کافر کہتے کہتے خود نہ ہوں از اہلِ نار