دُرِّثمین اُردو — Page 139
۱۳۹ اُس کا تو فرض تھا کہ وہ وعدہ کو کر کے یاد خود مارتا وہ گردن کتاب بدنہاد گر اُس سے رہ گیا تھا کہ وہ خود دکھائے ہاتھ اتنا تو سہل تھا کہ تمہارا بٹائے ہاتھ یہ بات کیا ہوئی کہ وہ تم سے الگ رہا کچھ بھی مدد نہ کی نہ سُنی کوئی بھی دُعا سب کام اپنی قوم کا برباد کر دیا جو مفتری تھا اُس کو تو آزاد کر دیا سب جد و جہد وسعی اکارت چلی گئی کوشش تھی جس قدر وہ بغارت چلی گئی کیا راستی کی فتح نہیں وعدہ خدا دیکھو تو کھول کر سخن پاک کبریا پھر کیوں یہ بات میری ہی نسبت پلٹ گئی یا خود تمہاری چادر تقوی ہی پھٹ گئی کیا یہ عجب نہیں ہے کہ جب تم ہی یار ہو پھر میرے فائدے کا ہی سب کاروبار ہو