دُرِّثمین اُردو — Page 130
۱۳۰ کچھ ایسے سو گئے ہیں ہمارے یہ ہم وطن اُٹھتے نہیں ہیں ہم نے تو سو سو کئے جتن سب عُضو مُست ہو گئے غفلت ہی چھا گئی قوت تمام نوک زباں میں ہی آ گئی یا بد زباں دکھاتے ہیں یا ہیں وہ بدگماں باقی خبر نہیں ہے کہ اسلام ہے کہاں تم دیکھ کر بھی بد کو بچو بدگمان سے ڈرتے رہو عقاب خدائے جہان سے شاید تمہاری آنکھ ہی کر جائے کچھ خطا شاید وہ بد بد نہ ہو جو تمہیں ہے وہ بدنما شاید وہ آزمائش رب غفور ہو شاید تمہاری فہم کا ہی کچھ قصور ہو! پھر تم تو بدگمانی سے اپنی ہوئے ہلاک خود سر پہ اپنے لے لیا خشم خدائے پاک گر ایسے تم دلیریوں میں بے حیا ہوئے پھر اتقا کے، سوچو، کہ معنے ہی کیا ہوئے