دُرِّثمین اُردو — Page 119
۱۱۹ کچھ کم نہیں یہودیوں میں یہ کہانیاں پر دیکھو کیسے ہو گئے شیطاں سے ہم عناں ہر دم نشان تازہ کا محتاج ہے بشر قصوں کے معجزات کا ہوتا ہے کب اثر کیونکر ملے فسانوں سے وہ دلبرِ ازل گر اک نشاں ہو ملتا ہے سب زندگی کا پھل قصوں کا یہ اثر ہے کہ دل پُرفساد ہے ایماں زباں پہ سینہ میں حق سے عناد ہے دنیا کی حرص و آز میں یہ دل ہیں مر گئے غفلت میں ساری عمر بسر اپنی کر گئے اے سونے والو! جاگو کہ وقت بہار ہے اب دیکھو آکے در پہ ہمارے وہ یار ہے کیا زندگی کا ذوق اگر وہ نہیں ملا لعنت ہے ایسے جینے پہ گر اُس سے ہیں جُدا اس رخ کو دیکھنا ہی تو ہے اصل مدعا جنت بھی ہے یہی کہ ملے یار آشنا