دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 116

١١۶ قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے! بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے جو لوگ شک کی سردیوں سے تھر تھراتے ہیں اس آفتاب سے وہ عجب دُھوپ پاتے ہیں دنیا میں جس قدر ہے مذاہب کا شور و شر سب قصہ گو ہیں نور نہیں ایک ذرہ بھر پر یہ کلام نور خدا کو دکھاتا ہے اُس کی طرف نشانوں کے جلوہ سے لاتا ہے جس دیں کا صرف قصوں پہ سارا مدار ہے وہ دیں نہیں ہے ایک فسانہ گزار ہے سچ پوچھئے تو قصوں کا کیا اعتبار ہے ہے دیں وہی کہ صرف وہ اک قصہ گو نہیں قصوں میں جُھوٹ اور خطا بے شمار ہے زندہ نشانوں سے ہے دکھاتا رہ یقیں ہے دیں وہی کہ جس کا خدا آپ ہو عیاں خود اپنی قدرتوں سے دکھاوے کہ ہے کہاں