دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 109

۱۰۹ اے مرے پیارے! یہی میری دعا ہے روز و شب گود میں تیری ہوں ہم اُس خونِ دل کھانے کے دن کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں فضل کا پانی پلا اس آگ برسانے کے دن اے مرے یار یگانہ! اے مری جاں کی پناہ! کروہ دن اپنے کرم سے دیں کے پھیلانے کے دن پھر بہار دیں کو دکھلا اے مرے پیارے قدیر! کب تلک دیکھیں گے ہم لوگوں کے بہکانے کے دن دن چڑھا ہے دُشمنانِ دیں کا ہم پر رات ہے اے مرے سورج دکھا اس دیں کے چمکانے کے دن دل گھٹا جاتا ہے ہر دم جاں بھی ہے زیر و زبر اک نظر فرما کہ جلد آئیں تیرے آنے کے دن چہرہ دکھلا کر مجھے کر دیجئے غم سے رہا کب تلک لمبے چلے جائیں گے ترسانے کے دن کچھ خبر لے تیرے گوچہ میں یہ کس کا شور ہے کیا مرے دلدار تو آئے گا مر جانے کے دن ڈوبنے کو ہے یہ کشتی آ مرے اے ناخدا آگئے اس باغ پر اے یار مُرجھانے کے دن