دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 28
۲۸ جمه پایندی حق پنیر دگر | اور نہ گیرد با خدا ئے اکبر ہے ! در با خدائے اکبرے ! باندی حق کے سوا کوئی دوسرا ہتر خدائے بزرگ سے تھیں جانتا اما همه پیغمبران را چا کریم : سمجھنا کے اوفتادہ پر درسے ہم تو سب پیغمبروں کے غلام ہیں اور خاک کی طرح اُن کے دروازہ پر پڑے ہیں ھر رسولے کو طریق حق نمود | جان ما فریال بر آں حق پر دور سے روه رسول میں نے خدا کا راستہ دکھایا ہماری جان اُس راستیانہ پر قربان ہے کا ہماری جان پر اسے خدا وندم به نیل انبیا | اکش فرستادی به فضل او فرے رے میرے خدا ان بنیاد ان انبیاء کے گروہ کے طفیل جن کو تو نے بڑے بھاری فصلوں کے ساتھ بھیجا ہے۔ معرفت همرده چو بخشیدی و لما اسے بدہ زلال ساں کہ دادی سائر ہے مجھے معرفت عطا فرمایا جسے تو نے دل دیا ہے شراب بھی عطا کر جبکہ تو نے جام دیا ہے اے خداوندم بنام منطقی | اکش شدی در سر مقامے ناصر سے اے میرے خدا۔ مصطفی کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مدد گار رہا ہے دست من گیر از رو لطف و کرم دور هم باش یار و یا دری اپنے لطف و کرم سے میرا ہاتھ پکڑاور میرے کاموں میں میرا دوست اور منہ گار بن جا نے و کرم میر میرے کاموں میں میرا دوست اور دے الکبیر پر زور تو داره کی گریه می ا ہمچو خاکم بلکہ نہال ہم کمرے می تیری قوت پر بروسہ رکھتا ہوں اگرچہ میں اک کی طرح ہوں بلکہ اس سے بھی کم تر دیباچه بر این احملہ یہ حصہ اول صفویه تا ۱۷ مطبوعه ۱۸۰