حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 39

حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 34

34 ابراہیم علیہ السلام نے صدق دکھلایا تو ان کو ابوالانبیاء بنا دیا۔ میرے کہنے کا مدعا یہ ہے کہ دن بہت سخت ہیں اور کسی نے اب تک نہیں سمجھا تو آئندہ سمجھ لیوے۔ مجھے الہام ہوا تھا۔ عَفَتِ الدَّيَارُ مَحِلُّهَا وَ مَقَامُهَا یہ ایک خطر ناک کلمہ ہے جس میں طاعون کی خبر دی گئی ہے کہ انسان کے لئے کوئی مفر اور کوئی جائے پناہ نہ رہے گی۔ اس لئے میں تم سب کو گواہ رکھتا ہوں کہ اگر کوئی سچی تبدیلی نہ کرے گا تو وہ ہرگز اس لائق نہ ہو گا کہ مجھ کو دعا کے لئے لکھے جو لوگ خدا تعالیٰ کے بتلائے ہوئے صراط مستقیم پر چلیں گے وہی محفوظ رہیں گے۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ ایسے ہی لوگوں کی حفاظت کا ہے جو سچی تبدیلی اپنے اندر کرتے ہیں ۔ مطلق بیعت انسان کے کیا کام آسکتی ہے۔ پورا نسخہ جب تک نہ پئے تو مریض کو فائدہ نہیں ہوا کرتا ۔ اس لئے پوری تبدیلی کرنی چاہئے ۔ جہاں تک ہو سکے دعا کرو۔ اور اللہ تعالی سے کہو کہ وہ تم کو ہر ایک قسم کی توفیق عطا کر ہے۔ ے منقول از البدر جلد ۴ نمبر ۳ صفح ۲ و ۳ مورخه ۲۰ جنوری ۱۹۰۵ء و الحکم جلد ۹ نمبر ۴ صفحه ۲، ۳ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۵ء۔