حضرت مسیح موعودؑ کی دو اہم تقریریں — Page 26
26 تو یہی اعتراض کر دیتے ہیں کہ اسلام میں ہمدردی اگر ہوتی تو آنحضرت ﷺ ﷺ نے الله لڑائیاں کیوں کی تھیں؟ وہ نادان اتنا نہیں جانتے کہ آنحضرت ﷺ نے جو جنگ کئے وہ تیرہ برس تک خطرناک دُکھ اُٹھانے کے بعد کئے اور وہ بھی مدافعت کے طور پر ۔ تیرہ برس تک ان کے ہاتھوں سے آپ تکالیف اُٹھاتے رہے۔ مسلمان مرد اور عورتیں شہید کی گئیں ۔ آخر جب آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں بھی ان ظالموں نے پیچھا نہ چھوڑا۔ تو خدا تعالیٰ نے مظلوم قوم کو مقابلہ کا حکم دیا اور وہ بھی اس لئے کہ شریروں کی شرارت سے مخلوق کو بچایا جائے ۔ اور ایک حق پرست قوم کے لئے راہ کھل جائے ۔ آنحضرت صلی اللہ نے کبھی کسی کے لئے بدی نہیں چاہی۔ آپ تو رحم مجسم تھے۔ اگر بدی چاہتے تو جب آپ نے پورا تسلط حاصل کر لیا تھا اور شوکت اور غلبہ آپ کو مل گیا تھا تو آپ ان تمام آئمۃ الکفر کو جو ہمیشہ آپ کو دکھ دیتے رہتے تھے۔ قتل کروادیتے اور اس میں انصاف اور عقل کی رو سے آپ کا پلہ بالکل پاک تھا۔ مگر باوجود اس کے کہ عرف عام کے لحاظ سے عقل اور انصاف کے لحاظ سے آپ کو حق تھا کہ ان لوگوں کو قتل کر وا دیتے ۔ مگر نہیں ، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا۔ آج کل جو لوگ غداری کرتے ہیں اور باغی ہوتے ہیں انہیں کون پناہ دےسکتا ہے ۔ جب ہندوستان میں غدر ہو گیا تھا اور اس کے بعد انگریزوں نے تسلط عام حاصل کر لیا تو تمام شریر باغی ہلاک کر دئے گئے اور ان کی یہ سزا بالکل انصاف پر مبنی تھی۔ باغی کے لئے کسی قانون میں رہائی نہیں۔ لیکن یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ اس دن آپ نے فرمایا کہ جاؤ تم سب کو بخش دیا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نوع انسان ہمدردی تھی۔ ایسی ہمدردی کہ اس کی نظیر دنیا میں نہیں مل سکتی ۔ اس کے بعد بھی اگر کہا جاوے کہ اسلام دوسروں سے ہمدردی کی تعلیم نہیں دیتا تو اس سے بڑھ کر ظلم اور کیا ہوگا؟ یقیناً یاد رکھو کہ مومن متقی کے دل میں شر نہیں ہوتا۔ جس قدر انسان متقی ہوتا جاتا ہے اسی قدر وہ کسی کی نسبت سزا اور ایڈا کو پسند نہیں کرتا۔ مسلمان کبھی کینہ ور نہیں ہو سکتا۔ ہم خود دیکھتے ہیں کہ صلى الله علوس سے بہت بڑی