امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 47
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام تھے، اور وہ بہت دُکھ دیئے گئے ۔ قرآن شریف میں ان کا ذکر ہے کہ کیونکر وہ دن رات فریاد کرتے تھے۔ اور جب کفار قریش کا حد سے زیادہ ظلم بڑھ گیا اور اُنہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرنا شروع کیا اور بعض عورتوں کو ایسی بے دردی سے مارا کہ ان کی دونوں ٹانگیں دورتوں سے باندھ کر دو اونٹوں کے ساتھ وہ رستے خوب جکڑ دیئے اور پھر ان اونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اس طرح پر وہ عورتیں دو ٹکڑے ہو کر مر گئیں۔ جب بے رحم کافروں کا ظلم اس حد تک پہنچ گیا۔ خدا نے جو آخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے، اپنے رسول پر وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ گئی۔ آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی ان کا مقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جولوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے۔ مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ دین میں جبر نہیں یہ ہے حقیقت اسلام کے جہاد کی ۔ جس کو نہایت ظلم سے بُرے 47