امن کے شہزادہ کا آخری پیغام — Page 45
امن کے شہزادہ کا آخری پیغام قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہو گئے اور جو بڑے بڑے آدمی تھے اُنہوں نے دشمنی پر کمر باندھ لی۔ یہاں تک کہ آخر کار آپ کو قتل کرنا چاہا اور کئی مرد اور کئی عورتیں بڑے عذاب کے ساتھ قتل کر دیئے گئے۔ اور آخری حملہ یہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا۔ مگر جس کو خدا بچاوے اس کو کون مارے۔ خدا نے آپ کو اپنی وحی سے اطلاع دی کہ آپ اس شہر سے نکل جاؤ اور میں ہر قدم میں تمہارے ساتھ ہوں گا ۔ پس آپ شہر مکہ سے ابو بکر کو ساتھ لے کر نکل آئے اور تین رات تک غار ثور میں چھپے رہے۔ دشمنوں نے تعاقب کیا اور ایک سراغ رساں کو لے کر غار تک پہنچے اس شخص نے غار تک قدم کا نشان پہنچا دیا اور کہا کہ اس غار میں تلاش کرو۔ اس کے آگے قدم نہیں ۔ اور اگر اس کے آگے گیا ہے تو پھر آسمان پر چڑھ گیا ہوگا۔ مگر خدا کی قدرت کے عجائبات کی کون حد بست کر سکتا ہے۔ خدا نے ایک ہی رات میں یہ قدرت نمائی کی نے اپنی جالی سے غار کا تمام منہ بند کر دیا اور عنكبوت 45