القصائد الاحمدیہ — Page 89
۸۹ تَصُولُ عَلَيَّ لِهَتُكِ عِرْضِي وَ اَعْتَلِى وَ اَعْطَانِيَ الرَّحْمَنُ مَا كُنتُ أَطْلُبُ تو تو میری ہتک عزت کے لیے مجھ پر حملہ کرتا ہے اور میں بلند ہوتا ہوں اور مجھے رحمان نے وہ کچھ دیا ہے جو میں طلب کرتا ہوں ۔ تَرى عِزَّتِي يَوْمًا فَيَوْمًا فَتَنْشَوِى وَتَهْذِي كَأَنَّكَ بِالْهَرَاوِي تُضْرَبُ تو میری عزت کو دن بدن ترقی پر پاتا ہے سو تو جلتا بھنتا ہے اور بکواس کرتا ہے جیسے کہ تجھے لاٹھیوں سے مارا جا رہا ہے۔ أَرى أَنَّ نَشْرِى فِيْكَ كَالرُّمْحِ لَاعِجٌ وَيُلَاعِجَنَّكَ شَأْنُنَا الْمُتَرَقَّبُ میں دیکھتا ہوں کہ میری ترقی تجھ میں نیزے کی طرح درد پیدا کرنے والی ہے اور ضرور دردناک کرے گی تجھے ہماری وہ حالت جس کا انتظار ہے۔ وَ لَوْ لَمْ يَكُنْ فِي الْقَلْبِ غَيْرُ تَغَيُّظٍ فَلَا الْقَلْبُ إِلَّا جَمْرَةٌ تَتَلَهَّبُ اور اگر دل میں سوائے غصہ کے اور کچھ نہ ہو تو پھر دل نہ ہوا بھڑکتی ہوئی چنگاری ہی ہوئی۔ وَلَا تَحْسَبَنُ قَلْبِي إِلَى الضّغْنِ مَائِلًا تَعَاشِيبُ أَرْضِ خُلَّةٌ وَ تَحَبُّبُ تو میرے دل کو کینے کی طرف مائل خیال نہ کر۔ میری زمین کے گھاس تو دوستی اور محبت ہیں۔ كَمِثْلِكَ عَادٍ مَّارَاً يُتُ وَلَاعِنَا أَقَوْلُكَ قَوْلٌ أَوْسِنَانٌ مُّذَرَّبُ تیرے جیسا دشمن اور لعنت کرنے والا میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ کیا تیرا کوئی قول ہے یا کہ تیز کیا ہوا نیزہ ؟ أَرَدْتَ وَبَالِي لَكِنِ اللَّهُ صَانَنِي تَنَدَّمُ فَقَدْ فَاتَ الَّذِي كُنْتَ تَطْلُبُ تو نے میر اوبال چاہا لیکن اللہ نے مجھے محفوظ رکھا۔ پشیمان ہو کہ جو کچھ تو طلب کرتا تھا وہ ہونے سے رہ گیا ہے۔ وَ لَسْتَ عَلَى مُصَيْطِرًا وَ مُحَاسِبًا وَمَا يُعْطِيَنَّ الرَّبُّ أَفَأَنتَ تَسْلُبُ تو مجھ پر کوئی داروغہ اور محاسب نہیں ہے۔ جو کچھ مجھے (میرا) رب دے رہا ہے کیا تو (اسے) چھین سکتا ہے؟ تَرَفَّقُ فَإِنَّ الرِّفْقَ لِلنَّاسِ جَوْهَرٌ وَمَا يَتْرُكَنُ سَيْفٌ فَبِالرِّفْقِ يُجْلَبُ نرمی اختیار کر کیونکہ نرمی لوگوں کی خوبی ہے اور جو کام تلوار سے نہ ہو سکے وہ نرمی سے حاصل ہو سکتا ہے۔ وَلَا تَشْرَبَنُ جَهْلًا أَجَاجَ عَدَاوَةٍ وَ وَاللَّهِ إِنَّ السِّلْمَ أَحْلَى وَ أَعْذَبُ اور نادانی سے عداوت کا کھاری پانی نہ پی اور خدا کی قسم اصلح بہت شیریں اور بہت میٹھی ہے۔