القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 67

۶۷ وَكَانَ مُكَاوَحَةٌ وَ فِسْقٌ شِعَارَهُمْ يُبَاهُونَ مِرِّيحِينَ فِي سُبُلِ الرَّدَى اور بد گوئی اور فسق ان کا شعار تھا۔ وہ ہلاکت کی راہوں میں مٹک مٹک کر چلنے میں فخر کرتے تھے۔ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ كَافِرٌ إِلَّا الَّذِي أَصَرَّ بِشِقْوَتِهِ عَلَى مَا تَعَوَّدَا پس ان میں سے کوئی کافر باقی نہ رہا سوائے اس شخص کے جس نے اصرار کیا اپنی بدبختی سے اس بات پر جس کا وہ عادی تھا۔ شَرِيعَتُهُ الْغَرَّاءُ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ غَيُورٌ فَأَحْرَقَ كُلَّ دَيْرٍ وَ جَلْسَدَا اس کی روشن شریعت ایک شارع عام ہے۔ وہ غیرت مند ہے۔ اس نے جلا ڈالا (یعنی بے اثر کر دیا ) ہر د کیر اور معبد کو۔ وَاتِى بِصُحُفِ اللَّهِ لَا شَكَّ أَنَّهَا كِتَابٌ كَرِيمٌ يَرْفِدُ الْمُسْتَرْفِدَا اور وہ اللہ کے صحیفے لایا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ ایک معزز کتاب ہے جو طالب انعام کو عطیہ دیتی ہے۔ فَمَنْ جَاءَهُ ذُلَّا لِتَعْظِيمِ شَأْنِهِ فَيُعْطَى لَهُ فِي حَضْرَةِ الْقُدْسِ سُوْدَدًا جو شخص اس کی عظمت شان کے اظہار کے لئے اس کے پاس نیاز مندی سے آئے اسے در بارالہی میں سرداری دی جاتی ہے۔ فَيَا طَالِبَ الْعِرْفَانِ خُذْ ذَيْلَ شَرْعِهِ وَدَعْ كُلَّ مَتُبُوعٍ بِهَذَا الْمُقْتَدَى اسے معرفت الہی کے طالب ! اس کی شریعت کا دامن پکڑلے اور اس پیشوا کے مقابلہ میں ہر پیشوا کو چھوڑ دے۔ يُزَكِّي قُلُوبَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ ظُلُمَةٍ وَمَنْ جَاءَهُ صِدْقًا فَنَوَّرَهُ الْهُدَى وہ لوگوں کے دلوں کو ہر تاریکی سے پاک کر دیتا ہے اور جو بھی اسکے پاس صدق سے آئے تو اسے (اسکی) ہدایت منور کر دیتی ہے۔ وَلَمَّا تَجَلَّى نُورُهُ التَّامُ لِلْوَرى وَلَوَّحَ وَجُهَ الْمُنْكِرِينَ وَ سَوَّدَا جب اس کے کامل نور نے مخلوق پر پنجابی کی اور منکرین کے چہرے کو جھلس دیا اور سیاہ کر دیا۔ تَرَاء جَمَالُ الْحَقِّ كَالشَّمْسِ فِي الضُّحَى وَلَاحَ عَلَيْنَا وَجُهُهُ الطَّلُقُ سَرْمَدَا تو جمال الہی اس طرح جلوہ گر ہو گیا جس طرح سورج دن کے وقت جلوہ گر ہوتا ہے اور اس کا ہمیشہ چمکنے والا چہرہ ہم پر ظاہر ہو گیا۔ وَ قَدِ اصْطَفَيْتُ بِمُهْجَتِى ذِكْرَ حَمْدِهِ وَ كَافٍ لَّنَا هَذَا الْمَتَاعُ تَزَوُّدًا میں نے اپنے دل و جان سے اس کی تعریف کے ذکر کو پسند کر لیا اور یہی سامان بطور ز ادراہ کے ہمارے لئے کافی ہے۔