القصائد الاحمدیہ — Page 63
۶۳ فَقُمْتُ بِصَحْبِى لِلدُّعَاءِ مُبَاهِلًا وَكَانَ مَعِي رَبِّي يَرَانِي وَ يَنظُرُ تو میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ دعا کیلئے مباہلہ کرتا ہوا کھڑا ہو گیا اور میرا رب میرے ساتھ تھا۔ مجھے دیکھ رہا تھا اور مجھ پر نظر کر رہا تھا۔ فَصُعِدَ صَرُخُ الصَّادِقِينَ إِلَى السَّمَا لِمَا أَخَذَتْهُمْ رِقَةٌ وَتَاثُرُ سو صادقوں کی فریاد آسمان تک پہنچ گئی کیونکہ ان پر رقت اور تاثر طاری ہو گئے ۔ فَأَعْجَبَ خَلْقًا جَيْشُهُمْ وَبُكَاؤُهُمْ فَبَكَوْا بِمَبْكَاهُمْ وَقَامَ الْمَحْشَرُ سولوگوں کو ان کے جوش اور رونے نے حیران کر دیا کہ ان کو روتا دیکھ کر وہ بھی رو پڑے اور ایک قیامت برپا ہوگئی ۔ وَ ظَلَّ الْمُبَاهِلُ يَقْذِفَنَّ مُكَفِّرًا فَيَا عَجَبًا مِّنْ دِينِهِمْ كَيْفَ كَفَرُوا اور (غزنوی ) مباہل تکفیر کرتے ہوئے تہمت لگا تا رہا۔ ان کے دین پر تعجب ہے کہ انہوں نے کیسے تکفیر کی ۔ وَمَا الْكُفْرُ إِلَّا مَا يُسَمِّيهِ رَبُّنَا فَذَرْهُمْ يَسُبُّوا كَيْفَ شَاءُ وُا وَ يُكْفِرُوا اور کفر تو وہ ہے جس کو ہمارا رب کفر کہے۔ تو انہیں چھوڑ دے جس طرح وہ چاہیں گالیاں دیں اور تکفیر کریں۔ وَإِنَّا تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ رَبِّنَا وَقَدْ شَدَّ اَزْرَ الْعَبْدِ رَبِّ مُبَشِّرُ اور یقینا ہم نے اللہ تعالیٰ پر جو ہمارا رب ہے تو کل کیا ہے اور بشارت دینے والے رب نے اپنے بندے کی ہمت بڑھا دی ہے۔ وَاخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ كُلُّه لِرَبِّ يَرَى حَالِي وَ قَالِي وَ يَنْصُرُ اور ہماری آخری پکار یہ ہے کہ سب کی سب حمد اسی رب کی ہے جو میرا حال وقال دیکھتا ہے اور مدد دیتا ہے۔ (کرامات الصادقين روحانی خزائن جلد کے صفحہ اے تا ۸۹ )